نئی دہلی، 14؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )حکومت نے اب چلن سے باہر کئے جا چکے 1000اور 500روپے کے پرانے نوٹوں سے پٹرول پمپ، سرکاری خدمات کی بل کی ادائیگی ، ٹیکس اور محصولات کی ادائیگی کی مدت کو 24؍نومبر تک کے لیے بڑھا دیا ہے۔غور طلب ہے کہ نقد رقم حاصل کرنے اور پرانے نوٹوں کے بدلے نئے نوٹوں کے لیے بینکوں اور اے ٹی ایم کے باہر لمبی لمبی قطاریں لگی ہیں جس کی وجہ سے حکومت نے اس راحت کا اعلان کیا ہے۔گذشتہ منگل کی رات کو 500اور 1000روپے کے پرانے نوٹوں کو چلن سے باہرکئے جانے کے بعد حکومت نے سرکاری اسپتا لوں، ریلوے ٹکٹ بکنگ کاؤنٹر ، پبلک ٹرانسپورٹ، ہوائی اڈوں پر ٹکٹ بکنگ،دودھ مراکز، شمشان یا قبرستانوں اور پیٹرول پمپوں پر ان کے چلن کو 72گھنٹوں کی اجازت دی تھی۔بعد میں اس فہرست میں میٹرو ریل ڈاک ٹکٹ، ہائی ویز اور سڑک ٹول، ڈاکٹر کے نسخے پر سرکاری اور نجی دکانوں سے دوا کی خریداری ، ایل پی جی گیس سلنڈر کی بکنگ، ریلوے کیٹرنگ، بجلی اور پانی کے بلوں کی ادائیگی اور ہندوستانی محکمہ برائے آثار قدیمہ کی یادگاروں میں داخلہ ٹکٹ کو بھی شامل کر دیا گیا تھا۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ان سب کے لیے بڑھائی گئی اضافی 72گھنٹوں کی میعاد آج رات کو ختم ہو رہی ہے،لیکن بینکوں کو اب بھی نقدی کے بہاؤ کو عام کرنے میں پیش آ رہی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اس میعاد کو 24؍نومبر تک کے لیے بڑھا دیا ہے۔پرانے نوٹوں کے ذریعے مرکزی بھنڈاروں جیسے کوآپرٹیو صارفین فروختگی مراکز اور عدالتی فیس کی قانونی شناختی کارڈ کے ساتھ ادائیگی کی جا سکتی ہے۔لیکن سرکاری خدمات کے صرف پرانے بل یا موجودہ بل کی ادائیگی صرف فرد یا گھروں کے حساب سے ہی پرانے نوٹوں کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔کسی طرح کی پیشگی ادائیگی کی اجازت نہیں ہے۔